11 فروری 2013 - 20:30

خبروں سے پتہ چلتاہے کہ یمنی عوام کے اندر ان کے ملک میں امریکہ کی طرف سے بڑھتی ہوئی مداخلت اورسازشوں کے پیش نظر امریکہ کے خلاف نفرت وبیزاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ امریکہ کے خلاف تنقیدوں کے پیش نظر یمن کے پارلیمانی نمایندے عبدالکریم جدبان نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک کا حقیقی حاکم امریکی سفیرہے ۔ عبدالکریم جدبان نے کہا ہے کہ درحقیقت یمن کا اصلی حاکم امریکی سفیر ہے اور وہی یمن کو چلا رہا ہے۔

ابنا: عبدالکریم جدبان نے مزید بتایا کہ خلیج فارس تعاون کونسل نے بھی عملا بین الاقوامی سطح پر یمن کو امریکہ کی قیمومیت میں دیدیا  ہے ۔ یمن  کی پارلمنٹ  تک امریکہ  کے خلاف بڑھتے ہوئے  اعتراضات  کے پیش نظر پورے یمن میں امریکی مداخلت اور یمنی حکام کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کے نظر انداز کئے جانے پر عوامی سطح پر احتجاج میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔حالیہ مہینوں میں عوام اپنے انقلاب کی حفاظت  اور سرنگوں شدہ ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے باقیات کو باقی رکھنے اور یمن کے انقلاب کو کامیاب نہ ہونے دینے کے سلسلے میں امریکی مداخلت کا  مقابلہ کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔ دو ہزار گیارہ  کے اوائل میں یمن کے لوگوں نے علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم شروع کی جو سرانجام اس  کےاقتدار  سے  ہٹنے پر منتج ہوئی ۔ یمن کے مخلوع اور ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح نےامریکہ ،سعودی عرب اور خلیح فارس تعاون کونسل کے  منصوبے  کےتحت عدالتی تحفظ کے مقابلے میں اقتدار اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کے سپرد کردی ۔ یمن کے عوام نے ہمیشہ عوامی  بنیادوں پر مبنی حکومت کی تشکیل پر زور دیا ہے ،جبکہ یمن میں ظاہری تبدیلی پر مبنی امریکی اور سعودی پالیسیوں پر عمل درآمد ہورہا ہے  جو عوام کوقبول نہیں ہیں یمن کے دشمن امریکہ اور سعودی عرب انقلاب میں آنے والی شدت کو دیکھکر یہ سجمھ رہے تھے کہ اب یمن میں ان کی پوزیشن ختم ہوگئی ہے لہذا مختلف سازشوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعہ انقلاب کو کامیاب ہونے سے روکنے لگے اور یمن میں مغرب نواز ڈکٹیٹر نظام کو پھر سے مسلط کرنے کے لئے اسباب فراہم کرنے لگے ۔ اس برے ہدف  کے تحت خلیج فارس تعاون کونسل نے امریکہ اور سعودی عرب کے ڈکٹیشن کے مطابق یمن میں اقتدار کی منتقلی کا منصوبہ پیش کیاجویمن کی کسی بھی پارٹی کےنزدیک قابل قبول نہیں تھا۔ یمن کے عوام نے خلیج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس منصوبے کو عملی طورپر یمن کو بیرونی طاقت کے زیر تسلط دینے کے مترادف قرار دیاہے ۔ دشمن یہ چاہتا تھا کہ انقلاب کی کامیابی  کے بعد قدرت عوام کے بجائے سابق ڈکٹیٹر حکومت  کے بازمندگان  کے اختیار میں رہے ۔ایسے وقت  امریکہ نے یمن کے داخلی امور میں اپنی مداخلت  میں اضافہ کردیا ہے ۔ امریکہ ہرموقع  سے فائدہ اٹھاکر یمن کی حاکیمت  کی خلاف ورزی کررہا ہے اور اس  سلسلے میں یمن میں امریکی مراکز اور سفارت خانہ  عملی طورپر دہشتگردانہ اور جاسوسی مراکز میں تبدیل ہوگیا  ہے جس کے پیش نظر یمنی عوام میں وسیع پیمانے پرتشویش پائی جاتی ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ امریکہ دوہزار گیارہ سےدہشتگردی اور القاعدہ  سے مقابلے  کے بہانے ڈرون طیاروں کے ذریعہ یمن کے مختلف علاقوں پر حملہ کررہا ہے ۔  یمن کے داخلی امور میں امریکہ  کی طرف سے بڑھتی ہوئی مداخلت کے پیش نظر عوام میں امریکہ کے خلاف مخالفت میں کافی اضافہ  ہوگیا ہے ۔مظاہرین نے اپنی حکومت پر ہمیشہ زور دیا ہے کہ  وہ  امریکہ کے ساتھ اپنے سیاسی اور فوجی تعاون کو ختم کرے اور مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے امریکی سفیر کویمن نے نکال دیں ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ یمن کے حکام نے اپنے ملک کے اداخلی امور میں امریکہ کی طرف سے بڑھتی ہوئی مداخلت پر خاموشی اختیار کررکھی ہے اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے نمٹنے کے بجائے ایران پر جھوٹے اوربے بنیاد الزام لگارہے  ہیں وہ  یمن کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے ۔ یمن کے داخلی امور میں امریکہ کی طرف سے بڑھتی ہوئی مداخلت اور ان اقدامات کے خلاف یمنی حکام کی خاموشی اورپالیسی  کو دیکھتے ہوئے یمن کی پارلیمنٹ اور عوام کے بڑھتے  ہوئے رد عمل سے پتہ چلتاہے کہ یمنی حکام اور ان کا حامی امریکہ کی فریب  کارانہ پالیسیاں ایک لمحے کے لئے بھی عوام کی  توجہ کو  امریکہ اوریمنی حکام  کی سازشوں سے منحرف  نہیں کرسکی ہیں ۔

.......

/169